Mery Pass Tum Ho

میرے  پاس تم ہو  2019 کا ڈرامہ جو اے آر وائے ڈیجیٹل  پر نشر ہوا ۔ڈرامے میں عائزہ خان ہمایون سعید  اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔ڈرامے کی کہانی محبت پر مبنی ہے۔دانش جو ایک سرکاری ملازمت کرتا ہے اور اپنی بیوی اور بچے سے بہت محبت کرتا ہے،اپنا گزر سفر کرتا ہے  خوشی خوشی زندگی گزارتے ہیں ۔ان کی زندگی شہوار نامی امیر بندے کی انٹری ہوتی ہے ان کی ملاقات مہوش کی دوست کی شادی میں ہوتی ہے ،شہوار کو مہوش پسند آتی  ہے اور وہ وہاں ہی اس کی تعریف کرتا ہے  پھر یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے   اس کے ساتھ ڈانس کرنے کا کہتا ہے لیکن انکار کر دیتی ہے کہ میرے میاں کو برا لگے گا۔بعد میں جب سب اکٹھے ڈانس کرتے ہیں تو شہوار موقع جانے نہیں دیتا اور مہوش کے ساتھ ڈانس کرتا ہے اور دانش دیکھ لیتا ہے اور مہوش کو لے کر واپس گھر آجاتا ہے اور مہوش کو کہتا ہے تم کیوں اس کے ساتھ ڈانس کر رہی تھی؟ وہ بندہ ٹھیک نہیں ہے اس کی نظریں اچھی نہیں تھی۔تم کسی اور کو مت دیکھو میں ہوں تمہارے ساتھ رومی ہے ۔ہم نے پیار کیاتھا شادی کی ہے ایک بچا ہے ہمارا تم کسی کو مت دیکھو ،بات یہیں  ختم نہیں ہوتی مہوش دانش کو بتائے بغیر شہوار سے رابطے میں رہتی ہے۔

ایک دن شہوار سب کو کھانے پر بلاتا ہے  مہوش ان کا گھر دیکھ کر حیران ہو جاتی ہے  شہوار کھانے کے بعد ان کو گفٹس دیتا ہے مہوش کو مہنگا ہار اور دانش کو کہتا ہے آپ ان کو ابھی پہنائیں اور دانش  مہوش کو پہناتا ہے اور دانش کے سامنے مہوش کی تعریف کرتا ہے۔دانش کو مہنگی گھڑی دیتا ہے دانش کو یہ بلکل پسند نہیں ہوتا لیکن وہ چپ رہتا ہے۔مہوش کا رویہ مختلف ہوتا ہے ہو دانش کے ساتھ خوش نہیں ہوتی ۔دانش شہوار کے دیے گئے انعامات واپس کرنے چلا جاتا ہے اور شہوار بڑا تیز ہوتا ہے اور اسے اپنی باتوں میں گھل ملا دیتا ہے۔دانش مہوش کو شہوار کے آفس میں نوکری کی اجازت دے دیتا ہے اور کہتا ہے شہوار اچھا بندہ ہے ۔مہوش کو 2 لاکھ کی نوکری مل جاتی ہے اور وہ گھر کو بلکل ٹائم نہیں دے پاتی اور ایک دن مہوش دانش کو بتائے بغیرشہوار کے ساتھ  اسلام آباد چلی جاتی ہے  دانش جب فون کرتا ہے تو اسے پتا چلتا ہے  وہ دوڑتا ایئرپورٹ  پہنچتا ہے وہاں دیکھتا ہے کہ مہوش واپس آرہی ہوتی ہے شہوار کے ساتھ۔مہوش جب دانش کوو دیکھتی ہے تو پریشان ہو جاتی ہے۔

دانش مہوش کو آفس جانے سے منع کر دیتا ہے کہتا ہے میں رشوت لے لوں گا کچھ بھی کر لوں گا لیکن تم اب آفس نہیں جاؤ گی۔لیکن وہ غصہ کرتی ہے کہتی ہے ہم اکٹھے نہیں رہ سکتے۔دانش سن کر پریشان ہو جاتا ہے اور اسے سمجھاتا ہے کہ جذبات میں مت آؤ کچھ بھی نہیں ہوا بس تم آفس نہیں جاؤ گی شہوار اچھا بندہ نہیں ہے،دانش اگلے دن اس کے آفس جاتا ہے کہ اس کو جو پیسے ایڈوانس لیے تھے وہ واپس کرنے جاتا ہے کہ آئندہ آپ سے کوئی تعلق نہیں۔جب وہاں پہنچتا ہے اور شہوار کو کہتا ہے کہ یہ لو پیسے اور رسید کاٹ کے دو میں جاؤں وہاں وہ مہوش کی تصویریں دکھاتا ہے اور  فون کی ریکارڈنگ سناتا ہے۔دانش وہیں ہار مان جاتا ہے کیوں کہ وہ مہوش کو اپنا غرور سمجھتا ہےدانش شہوار کوکہتا ہے کہ آکر مہوش کو لے جائے۔صبح جب وہ  ٓآتا ہے اس کو چائے پلاتا ہے باتیں کرتا ہے اور کہتا ہے جاؤ وہاں دانش ایک ڈائلاگ بولتا ہے جو لوگوں کو بے حد پسند آیا کہ شہوار صاحب آپ بڑے بزنس مین ہیں یہاں آپ مار کھاگئے ایک دو ٹکے کی عورت کے لئے آپ مجھے 50 ملین دے رہے تھے یہ بات مہوش بھی سن لیتی ہے اور دیکھتی رہ جاتی ہے۔آگے کیا ہوتا ہے مزید کہانی کے لئے دیکھیں ڈرامہ

      

 

 

Ayesha Khan Humayun Saeed is playing an important role in the drama which is aired on ARY Digital. The story of the drama is based on love. Danish who works in a government job and with his wife and child. Loves a lot, travels his way, lives happily ever after. His life is the entry of a rich servant named Shehwar. They meet at the wedding of Mahosh's friend. Shehwar likes Mahosh and she Praises her then the series goes on she asks him to dance with her but she refuses that my husband will feel bad. Later when everyone is together When they dance, Shehwar doesn't let go of the opportunity and dances with Mahosh and sees Danesh and comes back home with Mahosh and says to Mahosh why were you dancing with him? That servant is not well. His eyesight was not good. Don't look at anyone else. I am Rumi with you. We were in love. We are married. We have one child. Don't look at any of us. Stays in touch with Shehwar without telling.

One day Shehwar invites everyone to dinner. Mahosh is surprised to see their house. Shehwar gives them gifts after dinner. Mahosh asks Mahosh for an expensive necklace and Danesh. Praises Mahosh in front of him. He gives expensive watch to Danish. Danish doesn't like it at all but he stays silent. Mahosh's attitude is different but he is not happy with Danish. Goes and Shehwar gets very fast and mixes it in his words. Danish allows Mahesh to get a job in Shehwar's office and says Shehwar is a good servant. Mahosh gets a job worth Rs 2 lakh and she can't give time to the house at all and one day Mahosh goes to Islamabad with Shehwar without telling Danish. When Danish calls, he finds out that He runs to the airport and sees that Mahosh is coming back with Shehwar. Mahosh gets upset when he sees Danish.



Danish forbids Mahosh from going to the office and says I will take bribe, I will do anything but you will not go to the office now. But she gets angry and says we can't live together. Danish gets upset when he hears this. And explains to him that don't get emotional, nothing has happened, you just won't go to the office. Shehwar is not a good servant. Danesh goes to his office the next day to return the money he had taken in advance. No connection. When he arrives there and tells Shehwar to take the money and cut the receipt, he shows Mahosh's pictures and tells the phone recording. Yes, he gives up because he considers Mahosh as his pride. Danish tells Shehwar to come and take Mahosh. In the morning when he comes, he drinks tea with him, talks and says go there. I really liked that Shahwar Sahib, you are a big businessman. You were killed here. You were giving me 50 million for a woman of two rupees. Mahosh also hears this and keeps watching. What happens next? Watch for drama

Cast:

  • Humayun Saeed as Danish Akhtar

  • Ayeza Khan as Mehwish

  • Adnan Siddiqui as Shehwaar Ahmed

  • Shees Sajjad Gul as Roomi; Danish and Mehwish's son

  • Hira Mani as Hania; Roomi's teacher, Mateen's daughter (Extended cameo appearance)

  • Savera Nadeem as Maham Syed, Shahwar's wife (Guest appearance)

  • Mehar Bano as Anushey; Mehwish's friend

  • Mohammad Ahmed as Mateen; Danish's colleague, Hania's father

  • Shamim Hilaly as Roomi's school principal

  • Furqan Qureshi as Salman; Danish's friend

  • Rehmat Ajmal as Aisha; Danish and Mehwish's friend, Salman's wife

  • Asad Zaman Khan

  • Musaddiq Malik as Monty; Danish and Mehwish's neighbor

  • Waseem Lashari as Anti corruption officer

  • Anoushey Abbasi

Director: Nadeem Baig

Contact Us
Socialize with Us
  • Facebook
  • YouTube
2020@dramaspakistan.com all rights reserved